IQNA

11:58 - August 04, 2019
خبر کا کوڈ: 3506460
بین الاقوامی گروپ-افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکا سے 80 فیصد مذاکرات مکمل ہوچکے ہیں تاہم اس میں امریکی فوج کے انخلا کے ٹائم فریم پر اب بھی بحث ہونا باقی ہے۔

ایکنا نیوز- ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوحہ میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ڈان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 'ہم 80 فیصد امور پر معاہدہ کرچکے ہیں اور باقی 20 فیصد میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا اور ایک اور مسئلہ شامل ہے'۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ دوسرا 'مسئلہ' کیا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک چھوٹا مسئلہ ہے اور بڑا مسئلہ امریکی فوج کی افغانستان سے واپسی کا ہے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکا کے سفیر برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان سے ملاقات کی۔

تازہ مذاکرات کو نہایت اہم تصور کیا جارہا ہے جس میں امریکی افواج کا 18 سال بعد وسطی ایشیائی ملک سے انخلا سے متعلق پیش رفت کی اُمید کی جارہی ہے۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'ہم پراُمید ہیں کہ مذاکرات کے اس مرحلے میں معاہدہ کرلیں گے کیونکہ امریکا نے اس سے قبل بھی اس جانب اشارے دیے ہیں'۔

انہوں نے حال ہی میں سامنے آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی 2020 کے صدارتی انتخابات سے قبل فوجی انخلا کے حوالے سے رپورٹس کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ فوجی انخلا کا آغاز 14 ہزار فوج میں سے 50 فیصد کو واپس بلانے کے ساتھ کیا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکا، اس طرح کے اشارے دے رہا ہے تاہم انہیں اب تک مذاکرات کی ٹیبل پر یا تحریری صورت میں نہیں لایا گیا، فوجی انخلا کا وقت نہایت ضروری ہے اور ہم پراُمید ہیں کہ مذاکرات کے اس مرحلے میں فیصلہ ہوجائے گا'۔

اشرف غنی کی انتظامیہ کے ساتھ انٹرا افغان مذاکرات کے امریکی مطالبے کے حوالے سے سوال کے جواب میں سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تمام معاملات امریکا سے امن معاہدے کے بعد زیر بحث آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انٹرا افغان ڈائیلاگ اور افغانستان میں جنگ بندی کی اہمیت ہم جانتے ہیں تاہم یہ امریکا سے امن معاہدہ ہونے کے بعد زیر بحث آئیں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'امریکا سے معاہدہ پہلا حصہ ہے اور دوسرے حصے کا آغاز اس وقت ہوگا جب افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا پر معاہدہ کرلیں گے'۔

انہوں نے واضح کیا کہ افغان طالبان کابل کی حکومت کو نہیں مانتے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم کابل حکومت کو نہیں مانتے مگر ہم اسے دیگر افغان تحاریک کی طرح تنازع کا حصہ سمجھتے ہیں، وہ بھی انٹرا افغان ڈائیلاگ میں شامل ہوں گے تاہم یہ صرف اس وقت ہوگا جب امریکا کے معملات اختتام کو پہنچیں گے'۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ 'ہم اس کے بعد جنگ بندی اور دیگر امور کے لیے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا آغاز کرسکتے ہیں'۔

اسلام آباد سے دعوت نامہ موصول ہونے کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 'اس طرح کی کوئی بات ابھی نہیں ہوئی اور اب تک ہمیں اسلام آباد سے کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم دیگر دارالحکومتوں میں اپنے وفد بھیجتے ہیں اور ہم دعوت ملنے پر اسلام آباد بھی اپنی ٹیم بھیج سکتے ہیں'۔

نام:
ایمیل:
* رایے: