IQNA

11:29 - June 21, 2019
خبر کا کوڈ: 3506250
بین الاقوامی گروپ: شام و عراق میں شدت پسند تنظیم داعش کو شکست ہو چکی ہے تاہم اس کے شدت پسندوں کی بربریت کا شکار ہونے والی یزیدی خواتین کی دلخراش کہانیاں تاحال منظرعام پر آ رہی ہیں۔

ایکنا نیوز- دی مرر کے رپورٹ کے مطابق عظیمہ نامی بچی بھی انہی بدقسمت لڑکیوں میں سے ایک تھی جسے داعش کے شدت پسندوں نے اغواءکیا۔ اس وقت عظیمہ کی عمر صرف11سال تھی جب اغواءکرنے کے بعد اس کی زبردستی ایک شدت پسند کے ساتھ شادی کر دی گئی۔ اب عظیمہ کی عمر 16سال ہے اور اسے چند ماہ قبل ہی داعش کے چنگل سے چھڑایا گیا تھا۔ اب وہ شام میں ایک پناہ گزین کیمپ میں رہائش پذیر ہے۔
عظیمہ کا کہنا تھا کہ ”میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ میرے ساتھ جو لڑکیاں اغواءہوئی تھیں، انہیں بازار میں جانوروں کی طرح بار بار فروخت کیا گیا ۔ ان کے خریدار ان کے باپ اور دادا کی عمر کے تھے۔ میری جس شدت پسند سے شادی کروائی گئی وہ آذربائیجان کا شہری تھا اور اس کی عمر شادی کے وقت 19سال تھی۔ میں خود کو اس لیے خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ مجھے بار بار فروخت نہیں کیا گیا۔ میری اس شخص سے شادی ہوئی اور دوسال بعد وہ قتل ہو گیا۔ اس کے بعد میں اسی کے خاندان کے ساتھ رہی۔ اس کی فیملی نے میرا خیال رکھا۔ اس کی فیملی کی خواتین بہت نرم دل تھیں۔ اگر وہ نہ ہوتیں تو میرا بھی دیگر یزیدی لڑکیوں جیسا حال ہوتا اور شاید آج میں زندہ ہی نہ ہوتی۔“ واضح رہے کہ عظیمہ کو عراق کے علاقے سنجار سے 2014ءمیں دیگر سینکڑوں یزیدی لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ اغواءکیاگیا تھا۔

نام:
ایمیل:
* رایے: