IQNA

20:40 - June 19, 2019
خبر کا کوڈ: 3506249
بین الاقوامی گروپ-اقوام متحدہ کی تشکیل کردہ ٹیم کی جانب سے جاری کی گئی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن سلمان اور دیگر سینئر سعودی عہدیدار صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

ایکنا نیوز- رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ارسال کی گئی 100 صفحات پر مبنی رپورٹ پر ریاض کی جانب سے فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن سعودی عرب نے صحافی کے قتل میں ولی عہد کے ملوث ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

ماورائے عدالت قتل سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر اور تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ اگنیس کیلامارڈ نے مختلف ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد جب تک یہ ثابت نہیں کردیتے کہ وہ جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار نہیں، سعودی عرب پر عائد کی گئی پابندیوں میں توسیع کرتے ہوئے ولی عہد اور ان کے ذاتی اثاثوں کو بھی پابندی کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

 

اگنیس کیلامارڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جمال خاشقجی دانستہ، منصوبہ بندی کے تحت ماورائے عدالت قتل کا شکار ہوئے ہیں عالمی انسانی حقوق کے قانون کے تحت جس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے۔

رواں برس کے آغاز میں اگنیس کیلامارڈ نے فرانزک اور قانونی ماہرین پر مشتمل ٹیم کے ہمراہ ترکی کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ترک حکام سے شواہد حاصل کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ' قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جو اعلیٰ سطح کے سعودی حکام سمیت ولی عہد کی قتل کی شمولیت سے متعلق مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

اگنیس کیلامارڈ نے مزید کہا کہ ' انسانی حقوق کی ٹیم کی انکوائری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ولی عہد کے ذمہ دار ہونے سے ٹھوس اور قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جو مزید تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں'۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے عالمی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ماہر اگنیس کیلامارڈ کی جانب سے یہ رپورٹ 26 جون کو پیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ انسانی حقوق کونسل کے 47 رکن ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: