IQNA

8:21 - January 21, 2019
خبر کا کوڈ: 3505647
بین الاقوامی گروپ-وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت نے کہا ہے کہ پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مؤقف کے مطابق ساہیوال میں گزشتہ روز آپریشن 100 فیصد انٹیلی جنس، ٹھوس شواہد اور مکمل معلومات اور ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق لاہور میں وزیر قانون پنجاب اور صوبائی وزرا نے ساہیوال مقابلے سے متعلق میڈیا بریفنگ میں وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ گاڑی کو چلانے والے ذیشان کا تعلق داعش سے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والے خلیل کے اہلِ خانہ کی درخواست پر واقعے کا مقدمہ ساہیوال تھانے میں درج کرلیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے سپروائزر کو بھی معطل کردیا گیا ہے اور مقابلے میں حصہ لینے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے خلیل کے لواحقین کے لیے 2 کروڑ روپےکی مالی امداد اور بچوں کے لیے مفت تعلیم کا اعلان کیا ہے،انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے بچوں کے علاج کے مکمل اخراجات بھی اٹھائیں جائیں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ مالی امداد انسانی زندگی کا مداوا تو نہیں کرسکتی لیکن حکومت اپنی ذمہ داری نبھائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ مقابلے کی تحقیقات کے لیے ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے جو 2 دن میں پنجاب حکومت کو رپورٹ پیش کرے گی۔

داعش سے تعلقات کا دعویٰ

راجہ بشارت نے کہا کہ ذیشان کے کچھ عرصے سے داعش کے ایک خطرناک نیٹ ورک سے تعلقات تھے، یہ نیٹ ورک ملتان میں آئی ایس آئی کے افسران کےقتل، علی حیدر گیلانی کے اغوا اور فیصل آباد میں 2 پولیس افسران کے قتل میں ملوث ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے ملتان میں آئی ایس آئی افسران کے قتل میں سلور رنگ کی ہونڈا سٹی کار استعمال کی جس کی تلاش پولیس اور ایجنسیوں کو تھی۔

صوبائی وزیر قانون کے مطابق 13 جنوری کو ہونڈا سٹی کار دہشت گردوں کو لے کر ساہیوال گئی،اس حوالے سے سیف سٹی کیمروں کا معائنہ کیا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ ذیشان کی سفید رنگ کی آلٹو بھی دہشت گردوں کی گاڑی کے ساتھ تھی۔

انہوں نے کہا کہ ذیشان کی گاڑی بھی دہشت گردوں کے استعمال میں تھی،ان کا مزید کہنا تھا کہ ایجنسی اہلکار 18 جنوری کو کیمروں کی مدد سے ٹریس کرکے ذیشان کے گھر پہنچے تھے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: