IQNA

13:58 - January 10, 2016
خبر کا کوڈ: 3500080
بین الاقوامی گروپ:سعودی عرب ایران مخالف اتحاد میں پاکستان کو شامل کرنے کی سرتوڑ کوشش کررہا ہے اور اس سلسلے میں چند روز قبل سعودی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان کے بعد آج سعودی وزير دفاع اور ولیعہد پاکستان کا دورہ کریں گے جس میں پاکستانی حکام کو ایران مخالف 34 ممالک کے فوجی اتحاد میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ایکنا نیوز-مہر نیوز کے مطابق سعودی عرب کے وزير دفاع کے اس دورے کا مقصد سعودی عرب کی جانب سے ایران کے خلاف اضافی اقدامات پر غور کے لیے پاکستان کی حمایت کا حصول ہے۔ واضح رہے کہ 3 روز کے دوران یہ کسی بھی سعودی  اعلیٰ عہدیدار کا پاکستان کا دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے رواں ہفتے میں اسلام آباد کا دو روزہ دورہ مکمل کرکے سعودی عرب واپس لوٹے ہیں. ادھر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے اور ایران مخالف سعودی اتحاد میں شامل ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کیونکہ سعودی اتحاد غیر واضح اور مبہم ہے اور اس سے امت مسلمہ میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے سعودی اتحاد میں وہ اسلامی ممالک شامل نہیں ہیں جو دہشت گردی کے خلاف حقیقت میں  لڑ رہے ہیں جن میں شام، عراق ،ایران اور لبنان شامل ہیں ۔ اسلامی مبصرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب امریکی اور اسرائیلی اشاروں پر امت مسلمہ کو تقسیم کرکے ان کی توجہ مسئلہ فلسطین سے ہٹانا چاہتا ہے جو عالم اسلام کا سب سے اہم مسئلہ ہے۔ اگر سعودی رعب امت مسلمہ کا خیر خواہ ہے تو اسے ایران کے بجائے اسراغیل کے خلاف اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد تشکیل دینا چاہیےادھر ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف  نے سعودی حکام کوعلاقہ میں کشیدگی بڑھانے پر متنبہ کیا ہے کہ سعودی عرب دہشت گردوں کی حمایت اور علاقہ میں امن و صلح میں سے کسی ایک مسئلہ کا انتخاب کرے کیونکہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب  عراق، شام ، افغانستان اور لیبیا میں دہشت گردوں کی بڑے پیمانے پر حمایت کررہا ہے۔ یمن، شام اور عراق میں سعودی عرب کی بربریت دنیا کے سامنے واضح ہے سعودی عرب امریکی شیطانی اتحاد کا حصہ ہے لہذا بہت سے اسلامی ممالک آل سعود کی اسلام مخالف ریشہ دوانیوں سے آگاہ ہیں۔
نام:
ایمیل:
* رایے: